گمشدہ بچوں کی تلاش اورآگاہی کیلئےمعاشرےاورحکومت میں تعاون ناگزیر،صدرمملکت
لاپتہ بچوں بارےشکایات کےبروقت اندراج کیلئے زاراہیلپ لائن “1099”بارےمیں آگاہی ضروری ہے،صدرمملکت
صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کا زینب الرٹ ریسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ 2020ء(زارا) کےنفاذسےمتعلق اجلاس میں اظہارخیال

Comments
7 responses to “”
اجلاس میں سیکرٹری وزارت انسانی حقوق اللہ دینو خواجہ، ڈائریکٹر جنرل زارا، بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی مختلف این جی اوز کے نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کی شرکت
صدرمملکت کا اغواشدہ اور لاپتہ بچوں کےمعاملےپر شعور اجاگر کرنےکیلئے سول سوسائٹی،این جی اوز،قومی اور صوبائی محکموں کے مابین تعاون پر زور
زینب الرٹ ایکٹ کے بارے میں مقامی سطح پر آگاہی پیدا کرنا ہوگی ، صدر مملکت
لاپتہ بچوں بارے شکایات اور ایف آئی آر کا بروقت اندراج یقینی بنانا پولیس حکام کی ذمہ داری ہے، صدر مملکت
ملک بھر میں زینب الرٹ ایکٹ کا نفاذ یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں ، صدر مملکت
لاپتہ بچوں کی شکایات پر مقامی پولیس کے رسپانس ٹائم کو بہتر بنایا جانا چاہیے ، صدر مملکت
مقامی پولیس لاپتہ بچوں کی تلاش کے لیے فوری کارروائی کرے ، صدر مملکت
کسی بچے کی گمشدگی کے بعد کے ابتدائی 24 گھنٹے تلاش میں انتہائی اہم ہوتے ہیں، صدر مملکت
متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو نفسیاتی و سماجی مشاورت فراہم کرنے کے معاملے پر تعاون درکار ہے ، صدر مملکت
گمشدہ بچوں کی حفاظت اور تلاش کیلئے سول سوسائٹی اور سرکاری محکمے تعاون بڑھائیں، صدر مملکت
زرا ایکٹ کے صوبائی اور ضلعی سطح پر نفاذ میں خامیوں کی نشاندہی کرنے ، نفاذ مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے ، صدر مملکت
سول سوسائٹی اور این جی اوز سے مشورہ لینے کے بعد بہتری لانے کیلئے اصلاحی اقدامات کیے جائیں، صدر مملکت
مناسب وسائل اور لوگوں میں بیداری پیدا کرکے زارا کی کوریج کو پورے ملک تک بڑھایا جائے، صدر مملکت
1099 ہیلپ لائن، وزیراعظم سٹیزن پورٹل اور زارا ایپ پر لاپتہ بچوں بارے الرٹس اور شکایات کے بہتر انتظام کو یقینی بنایا جائے ، صدر مملکت
لاپتہ بچوں کے معاملات پر شکایت کنندگان کو 24 گھنٹے / 7 دن سروس کی فراہمی ضروری ہے، صدر مملکت